ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / میرے شوہر کو میری آنکھوں کے سامنے پولیس نے ہلاک کیا۔ منگلورو فائرنگ میں مقتول عبدالجلیل کی بیوہ نے میجسٹریٹ کو دیاتحریری بیان

میرے شوہر کو میری آنکھوں کے سامنے پولیس نے ہلاک کیا۔ منگلورو فائرنگ میں مقتول عبدالجلیل کی بیوہ نے میجسٹریٹ کو دیاتحریری بیان

Wed, 08 Jan 2020 13:22:33    S.O. News Service

منگلورو8/جنوری (ایس او نیوز) شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں 19دسمبر کو منگلورو میں جو تشددہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی پولیس کے لاٹھی چارج اور فائرنگ میں دو افراد جاں بحق ہونے کے علاوہ درجنوں لوگ زخمی ہوگئے تھے، اس کی تحقیقات ایک طرف سی آئی ڈی کررہی ہے تو دوسری طرف ضلع اڈپی کے ڈپٹی کمشنرجی جگدیشا کو اس معاملے کی میجسٹریل جانچ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔اس سلسلے میں متاثرہ افرا د کے بیانات اور شہادتیں جمع کی جارہی ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق پولیس فائرنگ میں  جان سے ہاتھ دھوبیٹھنے والے عبدالجلیل کی بیوہ سعیدہ نے عدت میں رہنے کی وجہ سے میجسٹریٹ کے سامنے آکر بیان دینے کے بجائے اپنی بیٹی خدیجہ شفانی اور بیٹے محمد سبیل کے توسط سے ایک تحریری بیان دیتے ہوئے راست الزام لگایا ہے کہ اس کے شوہر کو پولیس اس کی آنکھوں کے سامنے ہلاک کیاہے اور جھوٹی کہانی گھڑی ہے کہ عبدالجلیل پولیس پر پتھراؤ کررہا تھا۔ جبکہ نہ وہ احتجاج میں شامل تھا اور نہ ہی وہ کسی پر پتھراؤ کررہاتھا۔

 سعیدہ کے بیان کے مطابق جب ان کے علاقے میں حالات بگڑ گئے اور کشیدگی بہت زیادہ ہوگئی تو دونوں میاں بیوی اپنے اسکول سے واپس لوٹنے والے بچوں کے تعلق سے فکر مند ہوگئے۔ اور سعیدہ ؎ اپنے شوہر عبدالجلیل سے کسی طرح باہر جاکر اپنے بچوں کو اسکول سے واپس لانے کے لئے اصرار کرنے لگی۔ اس وقت وہ گھر کے اندر ہی تھا۔ تھوڑی دیر بعد علاقے میں ہجوم کم ہوگیا اور عصر کی اذان ہوئی تو عبدالجلیل نے کہا کہ وہ نماز ادا کرکے بچوں کو ساتھ لے آئے گا۔

جب عبدالجلیل گھر سے نکلاتو میں خوف زدہ تھی اور کھڑکی میں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس نے جیسے ہی سڑک پر قدم رکھا تو گھر کے سامنے ہی پولیس نے اس پر فائر داغ دیا اور وہ گر پڑا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے اسے قتل ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔  

 سعیدہ نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ اس کے شوہر نے کسی کو بھی کوئی تکلیف نہیں دی تھی۔ وہ احتجاجی مظاہرے میں بھی شامل نہیں تھا۔وہ کسی بھی ادارے سے تعلق نہیں رکھتاتھا۔ اس نے کسی پر بھی پتھر نہیں پھینکے تھے۔اس کے خلاف کبھی کوئی فوجداری مقدمہ داخل نہیں ہواتھا۔پولیس نے یہ جو کہانی بنائی ہے کہ عبدالجلیل چونکہ پولیس پر پتھراؤ کررہا تھا اس لئے اس پر فائر کیا گیا، وہ بالکل جھوٹی اور بے بنیاد ہے۔ سعیدہ نے اپنے بیان میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ اس نے اپنے شوہر کی موت کے فوراً بعد پانڈیشور پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی، لیکن آج تک ا س پر ایف آئی آر داخل نہیں کی گئی ہے۔

 ایک پولیس آفیسر کی ویڈیو کلپ وائرل ہوئی ہے جس میں اسے یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ اتنے راؤنڈ فائرنگ کرنے کے بعد بھی ایک بھی لاش کیوں نہیں گری۔اس کلپ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سعیدہ نے لکھا ہے کہ ایسالگتا ہے کہ پولیس جانبداری سے کام لے رہی تھی اور اس کا مقصد لوگوں کو قتل کرنا ہی تھا۔سعیدہ نے اپنی تحریر میں مطالبہ کیاہے کہ جن پولیس والوں نے اس کے شوہر پر فائرنگ کی تھی ان پر اور فائرنگ کا حکم دینے والے سینئر افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
 


Share: